قربانی پر ملحدین کے اعتراضات کے جواب

فیاض احمد سورتی



قرآنِ کریم میں تقریباً نصف دَرجن آیاتِ مبارکہ میں قربانی کی حقیقت ، حکمت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ سورة حج میں ہے:
”اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادتِ اِلٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاوٴ اور فقیر کو بھی کھلاوٴ، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھرتا ہو، جس طرح ہم نے اِن جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اِسی طرح اُن کو تمہارا تابع دار بنایا؛ تاکہ تم شکر بجالاوٴ! اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا؛ بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے اِس طرح مسخر کردِیا ہے؛ تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی، اور اے پیغمبر! مخلصین کو خوش خبری سنا دیجیے“۔(سورۂ حج ۳۷)
سابق انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں قربانی کا تسلسل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت تک پہنچتاہے، جس کا طریقہ یہ تھا کہ قربانی ذبح کی جاتی اور وقت کے نبی علیہ السلام دُعا مانگتے اور آسمان سے خاص کیفیت کی آگ اُترتی اور اُسے کھاجاتی جسے قبولیت کی علامت سمجھا جاتا تھا، قرآنِ کریم میں ہے:- ”اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّیٰ یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ“۔ترجمہ:۔”یہ لوگ ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم دے رکھاہے کہ ہم کسی رسول کی اُس وقت تک تصدیق نہ کریں؛ جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے کہ اُس کو آگ کھاجائے ۔

:اقوام عالم میں جانور کی قربانی کا نظریہ

اسلام کے علاوہ کچھ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا تصور موجود ہے جبکہ کچھ مذاہب اسکی تردید کرتے ہیں جن میں ’’ بدھ مت اور جین مت‘‘ مشہور ہیں ان کے ہاں جانوروں کو اذیت دینا سخت منع ہے اس لیے وہ کسی جانور کا گوشت تک نہیں کھاتے جبکہ ’’جین مت‘‘ کے پیرو کار منہ پر کپڑا وغیرہ باندھ کہ رکھتے ہیں کہ منہ میں غلطی سے بھی کوئی مچھر اور مکھی (جو کہ ایک مشکل ہی بات ہے) اچانک بھی نہ جائے اس ہی طرح ’’سکھ مت‘‘ میں بھی قربانیوں کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اس مذہب میں ہولا کے تہوار میں بھیڑ کی قربانی کی جاتی ہے۔ یہ قربانی جھچے دار ایک ہی جھٹکے میں کرتا ہے۔ قربانی کا خون اکھٹا کر کے نہنگ گروہ کے سردار کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اس طرح سکھ برادری اپنے مذہب کے لیے قربانی کے جذبے کا اظہار کرتی ہے۔اگر بات ’’یہودیت‘‘ کی کی جائے تو عید فصیح یہودیوں کا اہم تہوار ہے جو سات دن تک منایا جاتا ہے اس موقع پر ایک سالہ بھیڑ کے بچے کی قربانی دی جاتی ہے اور اس کا بھنا ہوا گوشت سب تبرک کے طور پر کھاتے ہیں۔ غیر یہودی کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔ عید فصیح کے بعد پچاسویں دن یومَ خمیس منایا جاتا ہے اس میں سات بھیڑیں یا بیل اور دو دنبے ذبح کئے جاتے ہیں اور غریب غرباء کو دعوت دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ دنیا کے کئی مذاہب میں دیوی، دیوتاؤں کی خوشی اور رضا مندی کی خاطر بھی قربانیاں دی جاتی ہیں۔ ہندو مت میں سب سے زیادہ بلی دینے کا رحجان پایا جاتا ہے بعض لوگ دیوتاؤں کی نوحہ اور منتوں کی تکمیل کے لیے بھی اولاد یا انسانی جانوں کی قربانی دیتے ہیں۔ عموماً انسانی جانوں کی بلی کو منظرِ عام پر نہیں لایا جاتا۔ یہ پوشیدہ قربانیاں ہوتی ہیں جو عمومی مقاصد کے لیے دی جاتی ہیں۔

اسلام سے پہلے بھی عرب کے لوگوں میں قربانیوں کا رواج تھا یہ قربانی سنتِ ابراہیمی کے مطابق جانوروں یعنی اونٹ، بھیڑ، بکریوں وغیرہ کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ عرب میں خصوصی منتیں مان کر بھی اپنی اولاد کو قربان کرنے کا رواج تھا جیسا کہ آپﷺ کے والد حضرت عبداﷲ کی قربانی کا واقعہ ہے۔ ’’ جب حضرت عبدالمطلب زمزم کا کنواں جو گمنام ہو چکا تھا اسے الہام الٰہی سے نشاندہی ملنے کے بعد کھودنے لگے تو انہیں دشواری ہوئی تو انہوں نے منت مانی کہ اگر میرے دس بیٹے ہوں تو میں ان میں سے ایک کو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دوں گا۔ ان کے بیٹے ہوئے تو انہوں نے قرعہ اندازی کی جس میں حضرت عبداﷲ کا نام نکلا جو کہ ان کے چہیتے بیٹے تھے حضرت عبدالمطلب انہیں قربان گاہ کی طرف لے گئے تو ان کے بھائیوں اور قبیلے کے دوسرے لوگوں کے اصرار پر حضرت عبداﷲ اور دس اونٹوں پر قرعہ ڈالا گیا مگر نام حضرت عبداﷲ کا ہی نکلا پھر اونٹوں کی تعداد بڑھائی گئی مگر ہر بار قرعہ میں نام حضرت عبداﷲ کا ہی نکلتا آخر کار سو اونٹوں پر قرعہ ڈالا گیا تو اونٹ پر قرعہ نکلا اس کے بعد حضرت عبداﷲ کی جگہ سو اونٹوں کی قربانی کی گئی۔‘‘ (طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام جلد اول)

اس کے علاوہ قربانی کی ایک قسم ’’انصاب‘‘ تھی جس کا ذکر ’’سورہ مائدہ‘‘ میں آیا ہے ’’عرب کے لوگ کوئی ایک نشانی بنا لیتے تھے کوئی لکڑی وغیرہ زمین میں دبا کے اس کے قریب جانوروں کی قربانی کرتے تھے‘‘ یہ قربانیاں بھی بتوں کی خوشنودی کے لیے کی جاتی تھیں۔ دین ابراہیمی ؑپر ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھی اصل قربانی کے طریقے سے منحرف تھے وہ لوگ قربانی کرنے کے بعد قربانی کا گوشت خانہ کعبہ کی دیواروں پر ملتے تھے۔ رسول اﷲ ﷺ کی آمد کے بعد سورہ براۃ میں اﷲ تعالیٰ نے حج اور قربانی کے تمام سابقہ طریقوں کو منسوخ کیا۔ ان کی تصحیح کر کے لوگوں کو سیدھی راہ دکھائی۔
قربانی ایک عظیم عبادت ہے ، جو تمام ادیان میں کسی نہ کسی صورت میں پائی جاتی ہے۔

:اسلام کے فلسفۂ قربانی پر شکوک و شبہات

مسلم لبرلز کی طرف سے ہر سال ایک خاص پروپیگنڈہ مسلمانوں کے درمیان اٹھایا جاتا ہے کہ ان جانوروں کی قربانی کرنے کے بجائے اگر فلاحی ادارے میں رقم دے دی جائے تو اس سے ایک عالَم کی جان بچائی جاسکتی ہے بجائے اسکے کہ ہم جانوروں کو قربان کرکے اپنی رقم کو ضائع کریں ۔انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ فلاحِ حقیقی اور فلاحِ دارین تو اللہ کا حکم پورا کرنے میں ہے اور اللہ کا حکم یہی ہے کہ مخصوص ایام میں اللہ کی بارگاہ میں جانور کا نذرانہ پیش کرنے سے بہتر کوئی عمل نہیں (ترمذی) سال کے ان مبارک دنوں کا افضل ترین عمل جو تمام قدیم شریعتوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا اسے چھوڑ کر عقل و قیاس یا ہمدردی و خیر خواہی کے گھوڑے دوڑانا عقل کو ٹھوکر لگانے کے مترادف ہے ان مسلم لبرلز کو خوفِ خدا کرنا چاہئے اس لئے کہ قربانی ایک مستقل واجب عبادت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے؛ آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی ۔صحابہ تابعین تبع تابعین ائمۂ مجتھدین اسلاف اور اکابرین غرض پوری امت کا متوارث متواتر اور مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے ۔
ایک اور شبہ کمیونسٹ منکرین خدا کی طرف سے بڑی شد و مد کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے کہ مسلمان قربانی کرکے ایک جان کی زندگی کو ختم کردیتا ہے رحم دلی و ہمدردی کا تقاضہ تو یہ ہیکہ ان جانوروں کو ذبح نہ کیا جائے در اصل یہ انکی کم علمی عدم بضاعتی کی دلیل ہے اور محض اسلام پر عمل کرنے سے لوگوں کو روکنا ہے دلیل اس پر یہ ہیکہ ۱۹۹۷ میں کسی سائنس داں نے ایک کتاب لکھی جسکا نام تھا "the secret life of plant" اس کتاب میں اس نے یہ ثابت کی ہے کہ پودیں بھی جانوروں کی طرح جذبات رکھتے ہیں کمیونکیٹ کرتے ہیں سانس لیتے ہیں ماحول کا اثر قبول کرتے ہیں حساس ہوتے ہیں کہ جس طرح جانور اپنی حس و شعور سے راستے کو اپناتے ہیں اسی طرح یہ درخت اور پودیں بھی اپنا راستہ اپناتے ہیں جڑوں کے ذریعہ ایک پودہ دوسرے پودے سے بات کرتا ہے آج یہ تمام باتیں موڈرن سائنس مان رہی ہے تو ایک جانور کے ذبح کرنے پر آپ میں اتنی زیادہ ناراضگی ہے تو یہی ناراضگی اس وقت آپکو اپنے اوپر بھی ہونی چاہئے جب آپ سبزیاں کھارہے ہوتے کہ ایک لائف اور حیات کا قتل کرکے آپ اسے اپنے پیٹ کی غذا بنارہے ہیں ایک جان کے بچاؤ کے چکر میں دوسری جان پے ظلم یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہ تھنکنگ اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ظلم اور ضرورت دو الگ الگ چیزیں اور ہر چیز کا مصرف الگ الگ ہے ہر ایک کو ایک لاٹھی سے ہانکنا انصاف نہیں ہے ۔ایکولیجیکل سائنس کہتی ہے ۔دنیا میں دو فیکٹر ہیں جن پر زمین کا قدرتی نظام کھڑا ہے
Prey&predator
یعنی شکار اور شکاری ہر ایک دوسرے پر انحصار کرتا ہے انمیں پہلا فیکٹر ہے زمین کہ اس پر پانی برستا ہے پانی استعمال ہوا پھر سبزا اگا سبزے کی جڑوں میں وارمز نائٹروجن فکس کرتے ہیں جسکی بنیاد پر خوارک لیتے ہیں پھر ہرا بھرا پودا ہوکر درخت اٹھ جاتا ان وامز یعنی کیڑوں کو چوہے کھاتے ہیں اور آگے چوہوں کو دوسرے جانور کھاتے ہیں حتی کہ یہ ایک مسلسل عمل چلتا رہتا ہے جسکی بنیاد پر نظام عالم قائم و دائم ہے یہی اکولو جیکل سائنس بتاتی ہے کہ اگر پوری روئے زمین سے سانپوں کو مار دیا جائے تو چوہوں کا ایک لامتناہی سلسلہ دنیا میں ظاہر ہوجائے اسی طرح چوپایہ انسان کی ضرورت ہے اور انسان کو فطرتًا گوشت کو چبانے کی صلاحیت دی ہے جس پر دلیل انسان کے دانت ہیں کہ ان میں بعض بالکل پلین اور سپاٹ ہیں اور بعض نوکیلے ہیں اگر انسان کو گوشت کھانے سے منع کردیا جائے تو گویا اسے اپنی فطرت سے روکنا ہے جو کسی بھی عقلمند آدمی کے نزدیک درست نہیں ہے 
اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

تهذيب الكمال في أسماء الرجال

کورونا وائرس اور اسلام

نظرات الامام ابی الحسن علی الندوی علی تاریخ الامم ضوء الکتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین