تهذيب الكمال في أسماء الرجال

فیاض احمد سورتی

                

      کتب ستہ ا کے اسماء الرجال کے تراجم میں  موجود کتابوں میں سب سے قدیم ترین کتاب حافظ عبدالغنی ابن عبد الواحد المقدسی الحنبلیؒ(_۶۰۰)کی الکمال فی اسماء الرجال ہے ، یہ کتاب اسماء الرجال لکتب الستہ و توابعھا کیلئے بعد میں لکھی جانے والی کتابوں کی اصل سمجھی جاتی ہے ، علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی(_۷۵۲) اس کتاب کی تعریف میں فرماتے ہیں "من اجل المصنفات فی معرفة حملة الآثار وضعا و اعظم المؤلفات في بصائر ذوي الالباب وقعا" یہ کتاب چونکہ کچھ تراجم کے استدارک ، بعض مسائل کو درج کئے جانے ،اور بہت سے اقوال و امثلہ کی شائشتگی کی مقتضی تھی اس لئے اس پر حافظ ابو الحجاج یوسف ابن الزکی المزی(_۷۴۲) نے کام کیا اور اس کتاب کو خوب سے خوب تر بنادیا جس سے حاملین و طالبینِ حدیث کو استفادہ کرنا آسان ہوگیا، انہوں نے اس کتاب کا نام *تھذیب الکمال فی اسماء الرجال* رکھا؛ اس کتاب کی تعریف میں علامہ ابن سبکی فرماتے ہیں "أجمع علی انہ لم یصنف مثلہ و لایستطاع" 

        علامہ مزیؒ نے اپنی اس کتاب میں درج ذیل باتیں ملحوظ رکھی ہیں:-

       (۱) کتبِ ستہ کے رجال کے تراجم ذکر کئے ہیں اسی طرح کتبِ ستہ کے مصنفین نے کتبِ ستہ کے علاوہ کتبِ حدیث لکھی ہے ان کتابوں کے رجال پر بھی کلام کیا ہے۔ہاں! اگر اصحابِ ستہ کے کتبِ تاریخ کے رجال کو ذکر نہیں کیا ہے اس لئے کہ کتبِ تواریخ میں درج احادیث سے استدلال نہیں کیا جاتا۔

       

        (۲)ہر راوی کے حالات میں انکے شیوخ و تلامذہ کو ذکر کیا ہے، ان شیوخ و تلامذہ کے ذکر میں مصنف نے استیعاب نہیں کیا ہے اس لئے کہ تمام رواۃ کے شیوخ و تلامذہ کا ذکر محال نہیں تو متعسر(مشکل) ضرور ہے۔


      (۳) رواۃ کے اساتذہ و شیوخ کو الفبائی ترتیب پر ذکر کیا ہے۔ 


      (۴) رواۃ کے سن وفات کو بھی ذکر کیا ہے؛ اگر اس سلسلہ میں کوئی اختلاف ہوتو اس اختلاف کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔


      (۵) کچھ تراجم ایسے ذکر کئے ہیں جنمیں احوالِ رواۃ مذکور نہیں، مثلا یوں کہا کہ:روی عن فلان ، روی عنہ فلان ، أخرج لہ فلان ، اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ بعض رواۃ کے حالات پر کلام نہیں کیا؛ اور یہ کوئی عیب کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ مصنف نے اپنی اس کتاب میں ہزاروں راویوں پر کلام کیا ہے جسکے مقابلہ میں اگر چند راوی کے احوال درج نہ ہوپائے بایں معنی کہ مصنف تک ان راویوں کے احوال نہ پہونچے ہو اور ایسا کتاب میں بہت کم ہوا ہے ۔


       (۶)کتاب بہت سی  ان احادیث کو ذکر کرکے طویل کردی ہے جن کی موافقات؛  ابدال اور اس قسم کے انواعِ علوِ روایت کی بنیاد پر وہ سند عالی ہوجائیں۔ کتاب کے حجم کے اعتبار سے ایسی احادیث کی تعداد کتاب کا ایک ثلث ہے، جیساکہ حافظ ابن حجر عسقلانی تھذیب التھذیب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔


      (۷) رجال کے احوال حروفِ معجم کی ترتیب پر ہے جسمیں اسماء صحابہ اور غیرِ صحابہ یعنی تابعین وغیرہ کو بھی ساتھ میں ہی ذکر کیا ہے اسکے برخلاف الکمال فی الاسماء الرجال للمقدسی میں صحابہ کے اسماء کو علیحدہ ذکر کیا ہے اور اسماء صحابہ کے ساتھ غیرِ صحابہ کونہیں ملایا ہے، نیز علامہ مزیؒ نے اپنی کتاب کو شروع کیا ہے ان لوگوں کے احوال سے جنکا نام احمد تھا ۔اور جن کا نام محمد تھا انکو انہوں حرف المیم میں ذکر کیا ہے نہ کہ شروع میں۔


        (۸) اکثر و بیشتر تراجم رجال میں رواۃ پر جرح و تعدیل کے لئے ائمۂ جرح و تعدیل سے سندا جرح و تعدیل نقل کرتے ہیں اور کبھی بغیر سند کہ محض جرح یا تعدیل پر اکتفاء کرتے ہیں۔اس بارے میں انہوں نے لکھا ہے:جن اقوال کو ہم نے اس کتاب میں بلا سند درج کیا ہے ، اگر اسکو معروف صیغے سے جزم و یقین کے ساتھ بیان کیا ہے تو قائل کی طرف اسکی سند میں کوئی خرابی نہیں اگرچہ طردا انکی سند مقام پر درج نہیں ہے ، اور اگر بلاسند صیغۂ تمریض کے ساتھ کوئی قول مندرج ہو تو سمجھنا چاہئے کہ اسکی سند اسکے قائل کی طرف محلِ نظر ہے ۔


      (۹) بعض دفعہ مبھم اسماء اورکنیت والے بعض ناموں کی ترتیب پر تنبیہ کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں:  اگر صاحبِ کنیت اپنے نام سے ہی مشہور ہے تو ہم نے ان کو اسماء میں ذکر کیا ہے پھر کنیت کے ذکر (فی الکنی) کے وقت اس پر تنبیہ کردی ہے ، اور اگر انمیں کوئی ایسا راوی ہو جسکا نام غیر معروف ہے یا اسکے نام میں اختلاف ہے تو اسکو کنیت (فی الکنی) کے تحت ذکر کیا ہے ، اور نام کے سلسلہ میں جو اختلاف ہے اسکو ذکر کیا ہے ، یہی منھج مصنف نے خواتین راویوں کے بارے میں اپنایا ہے ، ( نام سے مشہور ہو تو اسے ذکر کردیتے ہیں اگر نام غیر معروف یا مختلف فیہ ہو تو فی الکنی کے تحت اسکو ذکر کرتے ہیں) کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نعض اسماء دو یا دو سے زائد ترجموں میں داخل ہوجاتے ہیں تو اسکو پہلے ترجمے میں ذکرکرکے دوسری مرتبہ اسکی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔ اسکے بعد ان راویوں کے تراجم کیلئے فصلیں قائم کی ہیں جو اپنے والد ، دادا ، ماں یا چچا کی طرف منسوب ہوکر مشہور ہوے ہیں ، یا اپنے قبیلے ، پیشے ، شہر ، کی طرف منسوب ہیں، یا یہ کہ انکا مبھم انداز میں تذکرہ ہو مثلا فلان عن ابیہ أو عن جدہ أو عمہ و ما الی ذلک تو اس وقت اگر ممکن ہو تو اس ابہام کو دور کرکے راوی کا نام ذکر کرتے ہیں؛ اور یہی منھج خواتین راویوں میں بھی اختیار کیا ہے ۔


       (۱۰) شروع کتاب میں تین فصلیں بیان کی ہے (۱) أئمۂ کتبِ ستہ کی احادیث درج کرنے میں شرائط کے بارے میں(۲) ثقہ راویوں سے روایت لینے کی ترغیب پر (۳) ترجمۂ نبوی یعنی سیرتِ نبوی پر ۔


      (۱۱) الکمال فی اسماء الرجال کے بعض راویوں کے تراجم کو علامہ مزی نے تھذیب الکمال سے حذف کردیا ہے ، اس لئے کہ وہ راوی کتبِ ستہ کے رواۃ میں سے نہیں تھے اور الکمال میں اس ظن کی بنیاد پر انہیں درج کیا گیا تھا کہ وہ کتبِ ستہ کے رواۃ میں سے ہیں ۔


      (۱۲) ہر ترجمے میں رموز و اشارات بیان کئے ہیں جس سے ان مصنفات کی نشاندہی ہو جائیں جس میں صاحب ترجمہ کی سند سے حدیث نقل کی گئی ہیں۔

        اور وہ رموز یہ ہیں 

(۱) ع:- مجموعِ اصحابِ ستہ کیلئے 

(۲) ٤:- اصحابِ سننِ اربعہ (ابوداؤد نسائی ترمذی اور ابنِ ماجہ کیلئے 

(۳) خ :- امام بخاری 

(۴) خت:- تعلیقاتِ امام بخاری  

(۵) ز:-  القراءة خلف الامام للبخاری

(۶) ی:- کتاب رفع الیدین للبخاری

(۷) بخ:-کتاب الادب للبخاری

(۸) عخ:- کتاب افعال العباد للبخاری 

_________________________

(۹)م:- صحیح المسلم 

(۱۰)مق:- مقدمۃ صحیح المسلم

_________________________

(۱۱) د:- سنن أبی داؤد 

(۱۲) مد:- کتاب المراسیل لأبی داؤد

(۱۳) قد:- کتاب الرد علی اھل القدر لأبی داؤد 

(۱۴) خد:- کتاب الناسخ و المنسوخ لأبی داؤد

(۱۵) ف:- کتاب التفرد (ماتفرد بہ اھل الامصار من السنن) لأبی داؤد

(۱۶) صد:- ما اخرجہ ابو داؤد فی فضائل الانصار 

(۱۷) ل:- کتاب المسائل(التی سأل عنھا أبا عبد اللہ أحمد ابن محمد ابن حنبل) لأبی داؤد 

(۱۸) کد:- مسند حدیث مالک ابن انس لأبی داؤد 

_________________________

(۱۹) ت:- سنن الترمذی

(۲۰) تم:- شمائل الترمذی

_________________________

(۲۱)س:- سنن النسائی

(۲۲) سی:- کتاب عمل الیوم و اللیلۃ للنسائی

(۲۳) ص:- خصائص علی ابن أبی طالب رضی اللہ عنہ للنسائی

(۲۴)عس:- مسند علی ابن أبی طالب للنسائی 

(۲۵) کن:- حدیث مالک ابن انس

__________________________

(۲۶) ق:- سنن ابن ماجہ 

(۲۷) فق:- ابن ماجہ فی التفسیر

Comments

Popular posts from this blog

کورونا وائرس اور اسلام

نظرات الامام ابی الحسن علی الندوی علی تاریخ الامم ضوء الکتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین