Posts

گداگری ایک لعنت

 عبادت گاہوں مسجدوں اور چوک چوراہوں پر لوگوں کی ایک ایسی تعداد جو اپنے چہروں پر معصومی سجائے دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتی ہے ، جن کی اکثریت مانگنے کو اپنا موروثی حق گردانتی ہے ، اس حق کی حفاظت کیلئے انہوں نے شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھنا؛ خود کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا ؛ لوگوں سے دانٹ پھٹکار سننا فطرتِ ثانیہ بنا لیا ہیں، ان کا جسم توانا ہوگا ہاتھ پاؤں سلامت ہونگے مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑینگے ، خود کو بیمار اور اپاہج ظاہر کرکے مختلف تدبیروں سے دستِ سوال دراز کرنے کو اپنے موروثی مشن کی تکمیل کا سبب گردانتے ہیں ، اس کام کیلئے اپنی بیوی حتی کہ نابالغ بچوں کو بھی اپنی صف میں کھڑا کرکے ان معصوم ذہنوں کو بے حمیت و بے غیرت بنانے سے نہیں چوکتے ، بعض بھیک مانگنے والے بے شرم ہوکر کہتے ہیں کہ "ہم تو شاہ ہیں ،گداگری ہمارا آبائی پیشہ ہے" لہذا ہمیں مانگنے سے نہ روکو۔ جبکہ شرعا بھیک مانگنے کا تعلق کسی خاندان، ذات، یا برادی سے قطعا نہیں ہے ، بلکہ اسلام کی اس سلسلہ میں واضح تعلیمات موجود ہیں "حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ مبی علیہ السلام نے ارشادفرمایا ، مال د...

تهذيب الكمال في أسماء الرجال

فیاض احمد سورتی                        کتب ستہ ا کے اسماء الرجال کے تراجم میں  موجود کتابوں میں سب سے قدیم ترین کتاب حافظ عبدالغنی ابن عبد الواحد المقدسی الحنبلیؒ(_۶۰۰)کی الکمال فی اسماء الرجال ہے ، یہ کتاب اسماء الرجال لکتب الستہ و توابعھا کیلئے بعد میں لکھی جانے والی کتابوں کی اصل سمجھی جاتی ہے ، علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی(_۷۵۲) اس کتاب کی تعریف میں فرماتے ہیں "من اجل المصنفات فی معرفة حملة الآثار وضعا و اعظم المؤلفات في بصائر ذوي الالباب وقعا" یہ کتاب چونکہ کچھ تراجم کے استدارک ، بعض مسائل کو درج کئے جانے ،اور بہت سے اقوال و امثلہ کی شائشتگی کی مقتضی تھی اس لئے اس پر حافظ ابو الحجاج یوسف ابن الزکی المزی(_۷۴۲) نے کام کیا اور اس کتاب کو خوب سے خوب تر بنادیا جس سے حاملین و طالبینِ حدیث کو استفادہ کرنا آسان ہوگیا، انہوں نے اس کتاب کا نام *تھذیب الکمال فی اسماء الرجال* رکھا؛ اس کتاب کی تعریف میں علامہ ابن سبکی فرماتے ہیں "أجمع علی انہ لم یصنف مثلہ و لایستطاع"          علامہ مزیؒ نے اپنی اس کتاب میں د...

نظرات الامام ابی الحسن علی الندوی علی تاریخ الامم ضوء الکتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین

 تکلم الامام ابو الحسن علی الندوی رحمہ اللہ فی کتابہ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین عن حال العالم قبل الاسلام شرقا و غربا عربا و عجما و بین بل ثبت ان الاسلام ھو دین قیم عالمی یخرج الناس من عبادۃ العباد الی عبادۃ رب العباد و من جور الادیان الی عدل الاسلام فتکلم المصنف عن المسیحیۃ و ماوصلت الیھا من حروب اھلیۃ  ضلالات الی ان استعبد الرھبان باکملھم ھکذا تکلم عن الحبشۃ و ماوصلت الیھا من جاھلیۃ عمیاء ثم انتقل الی الامم الاوروبة حیث انقسمت لدیانتان مسیحیة و يهودىة و کتب عن ضلالات تانک الدیانتان کانتا علیھا من اوھام عقلیۃ و حروب اھلیۃ ثم نظر الی الفارس و ما وصل الیہ من تعظیم الاکاسرۃ  وکیف دخلت الضلالۃ من التوجیہ الی النار الی تعبیدھا بحیث صارت لھم معبودۃ مسجودۃ ثم یتکلم عن الھند و المذاھب المتداولۃ فیھا کالھندوسیۃ و البوذیۃ و البرھمیۃ و ذکر ضلالاتھم الخبیثۃ بحیث قسم الانسانیۃ علی اربع طبقات و انتشار الفاحس و الزنا و ماالی ذالک من الضلالات ثم نظر المصنف الی احوال العرب و دیاناتھا التی علیھم و ماوصلت الیھم من تعبید الحجر و تصورھم انہ وسیلۃ لعبادۃ الرب تبارک و تعالی و العصبیۃ الج...

مسروق ابن الاجدع الھمدانی

 *مسروق ابن الاجدع*  مسروق ابن الأجدع  الإمام ، القدوة العلم أبو عائشة الوادعي  الهمداني الكوفي وهو مسروق بن الأجدع بن مالك بن أمية بن عبد الله بن مر بن سلمان بن معمر ويقال سلامان بن معمر بن الحارث بن سعد بن عبد الله  بن وادعة بن عمر بن عامر بن ناشح بن دافع بن مالك بن جشم بن حاشد بن جشم بن خيوان بن نوف بن همدان .(سیر اعلام النبلاء للذھبی ج ٤ ص ٦٤/٦٥)  اساتذہ:- أبي بن كعب  وعمر  وعن أبي بكر الصديق -إن صح- وعن أم رومان ومعاذ بن جبل  وخباب وعائشة  وابن مسعود وعثمان وعلي وعبد الله بن عمرو وابن عمر وسبيعة ومعقل بن سنان والمغيرة بن شعبة وزيد حتى إنه روى عن عبيد بن عمير قاص مكة .(ایضا ٦٥)  شاگرد :- الشعبي وإبراهيم النخعي ويحيى بن وثاب وعبد الله بن مرة وأبو وائل ويحيى بن الجزار وأبو الضحى وعبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود وعبيد بن نضيلة ومكحول الشامي -وما أراه لقيه- وأبو إسحاق ومحمد بن المنتشر ومحمد بن نشر الهمداني وأبو الأحوص الجشمي وأيوب بن هانئ وعمارة بن عمير وحبال ابن رفيدة وأنس بن سيرين وأبو الشعثاء المحاربي  وآخرون(ایضا ٦٥)  ...

قربانی پر ملحدین کے اعتراضات کے جواب

فیاض احمد سورتی قرآنِ کریم میں تقریباً نصف دَرجن آیاتِ مبارکہ میں قربانی کی حقیقت ، حکمت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ سورة حج میں ہے: ”اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اُونٹوں کو عبادتِ اِلٰہی کی نشانی اور یادگار مقرر کیا ہے، ان میں تمہارے لیے اور بھی فائدے ہیں، سو تم اُن کو نحر کرتے وقت قطار میں کھڑا کرکے اُن پر اللہ کا نام لیا کرو اور پھر جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو اُن کے گوشت میں سے تم خود بھی کھانا چاہو تو کھاوٴ اور فقیر کو بھی کھلاوٴ، خواہ وہ صبر سے بیٹھنے والا ہو یا سوال کرتا پھرتا ہو، جس طرح ہم نے اِن جانوروں کی قربانی کا حال بیان کیا، اِسی طرح اُن کو تمہارا تابع دار بنایا؛ تاکہ تم شکر بجالاوٴ! اللہ تعالیٰ کے پاس ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا؛ بلکہ اس کے پاس تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے اِس طرح مسخر کردِیا ہے؛ تاکہ تم اس احسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرو کہ اس نے تم کو قربانی کی صحیح راہ بتائی، اور اے پیغمبر! مخلصین کو خوش خبری سنا دیجیے“۔(سورۂ حج ۳۷) سابق انبیاء کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں قربانی کا ت...

کورونا وائرس اور اسلام

         فیاض احمد سورتی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جسکی تعلیمات پر عمل کرکے ہم نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں؛ اسلام نے قرآن و سنت کے ذریعے جو تعلیمات ہم تک پہونچائی ہیں وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اسلام دنیا کا وہ خوبصورت ترین مذھب ہے جو عبادات سے لیکر طہارت تک، معاشرت سے لیکر معیشت تک، گھر سے لیکر کاروبار تک ہر چیز میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔ان تعلیمات میں سائنس ہو یا معیشت فلسفہ ہو یا تاریخ ہر پہلو پر ہمیں خوبصورت معلومات کا ذخیرہ ملتا ہے ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں کووڈ نائن ۱۹ معروف کورونا وائرس ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو متأثر کرچکا ہے نیز پوری دنیا کے دو تہائی سے زائد ملکوں کو یہ متأثر کر چکا ہے ان بیماریوں کی تاثیر و عدمِ تاثیر اسی طرح احتیاطی تدابیر سے متعلق اسلام میں واضح ہدایات موجود ہیں مثلا بخاری شریف کی روایت "لا یورد ممرض علی مصحح" (صحیح بخاری باب لا ھامۃ) یعنی بیمار اونٹوں والا اپنے اونٹوں کو تندرست اون...