کورونا وائرس اور اسلام
فیاض احمد سورتی
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک ایسے دین کے پیروکار ہیں جسکی تعلیمات پر عمل کرکے ہم نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں؛ اسلام نے قرآن و سنت کے ذریعے جو تعلیمات ہم تک پہونچائی ہیں وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اسلام دنیا کا وہ خوبصورت ترین مذھب ہے جو عبادات سے لیکر طہارت تک، معاشرت سے لیکر معیشت تک، گھر سے لیکر کاروبار تک ہر چیز میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔ان تعلیمات میں سائنس ہو یا معیشت فلسفہ ہو یا تاریخ ہر پہلو پر ہمیں خوبصورت معلومات کا ذخیرہ ملتا ہے ۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں کووڈ نائن ۱۹ معروف کورونا وائرس ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کو متأثر کرچکا ہے نیز پوری دنیا کے دو تہائی سے زائد ملکوں کو یہ متأثر کر چکا ہے ان بیماریوں کی تاثیر و عدمِ تاثیر اسی طرح احتیاطی تدابیر سے متعلق اسلام میں واضح ہدایات موجود ہیں مثلا بخاری شریف کی روایت "لا یورد ممرض علی مصحح" (صحیح بخاری باب لا ھامۃ) یعنی بیمار اونٹوں والا اپنے اونٹوں کو تندرست اونٹوں کے پاس نہ لے جائے تاکہ متعدی بیماری ایک سے دوسرے اونٹوں کی طرف منتقل نہ ہو اسی طرح ایک حدیث "فر من المجذوم فرارک من الاسد"(صحیح بخاری باب الجذام) دونوں حدیثوں میں مریضوں سے بیماری کے پھیلنے کا اثبات مؤثر ہونے کے اعتبار سے ہے لیکن اسکی تاثیر کوئی حتمی و یقینی امر نہیں ہے۔ بلکہ اسے اسباب سے اجتناب کے باب پر محمول کیا جائیگا۔ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ بعض احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کے عدمِ تعدیہ کو بیان کیا ہے مثلا صحیح بخاری کتاب الطب کے باب الجذام میں روایت ہے "لا عدوی و لا طیرۃ و لا ھامۃ و لا صفر" اسکا مطلب حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں بیان کرتے ہیں جسکا حاصل یہ ہیکہ زمانۂ جاہلیت میں بعض امور کو مؤثر بالذات سمجھ کر یا اسکو منحوس سمجھ کر اسکے لوازمات کا کلی اعتقاد رکھاجاتا تھا اس اعتقاد کی مذکور حدیث میں نفی مقصود ہے اور اس سے ذات باری تعالی پر پر توکل صدقِ عزیمت قائم کرنا مقصود ہے ۔اخیرا ایک اور حدیث جو اس مسئلہ سے مکمل نقاب کشائی کرکے مسئلہ کو منقح کردیتی ہے وہ یہ ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" لَا عَدْوَى وَلَاصَفَرَ وَلَا هَامَةَ ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ، كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ ". (صحیح بخاری باب الجذام) اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف واضح اشارہ فرمایا کہ مریض اونٹوں سے تندرست اونٹوں کی طرف مرض اللہ کی تدبیر سے منتقل ہوتا ہے کہ پہلے اونٹ پر متعدی صورت کے بغیر اللہ عز وجل کی طرف سے نازل ہوی تھی اسمیں سوائے تقدیرِ الہی کہ کوئی سبب معلوم نہیں جبکہ بعد والے اونٹوں میں خارش کا سبب معلوم ہے اب اگر اللہ تعالی چاہتا تو اس دوسرے اونٹ کو خارش نہ ہوتی۔ بسا اوقات اسکا مشاہدہ بھی ہے کہ اکثر متعدی امراض کے شکار لوگوں کے درمیان رہنے والے کو اس متعدی مرض کا ذرہ برابر اثر نہیں ہوتا جس سے یقینا یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ متعدی بیماریاں یقینا مؤثر بالذات نہیں ہے نیز اس مرض کا بالیقین متعدی ہونا بھی ایک ظن ہے جیساکہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے ساتھ کھانا تناول فرمایا جو جذام جیسی مہلک و متعدی بیماری میں مبتلا تھا ۔تو یہ آپ علیہ السلام کا اللہ کی ذات پر کامل توکل ہے جو آپ کیلئے اینٹی بائٹک کا کام کررہا تھا۔ یہی وجہ ہےکہ جن احادیث میں مرض کے متعدی نہ ہونے کا تذکرہ ہے اسمیں آپ علیہ السلام نے عقیدۂ تقدیر اور ذات الہی پر توکل کی طرف ابھارا ہے کہ ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے جس سے پہلے کسی کی موت نہیں ہوسکتی اگر موت کا وقت آجائے تو اسے کوئی ٹال نہیں سکتا جیساکہ قرآن کریم سورۂ نحل میں ہے "فاذا جاء اخلھم لا یستأخرون ساعۃ و لایستقدمون"
ان احادیث میں تطبیق کی بہترین صورت یہی ہے جسے بیان کیا گیا ہے جسے اکثر محدثین نے اختیار کیا ہے۔
بعض لوگوں نے اسے نسخ پر بھی محمول کیا ہے لیکن تطبیق پر محمول کرنا اولی ہے تاکہ دونوں جہتوں پر عمل ہوجائے جبکہ نسخ کی صورت میں ایک جہت پر عدمِ عمل ثابت ہوتا ہے ۔
جہاں تک احتیاطی تدابیر کا معاملہ ہے تو اس کے متعلق بھی اسلام کی واضح تعلیم موجود ہے جیساکہ حدیث بالا (فر من المجذوم فرارک من الاسد) سے معلوم ہوتا ہے اسی طرح
أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ قالَ في غزوةِتبوكَ إذا وقعَ الطَّاعونُ بأرضٍ وأنتم بها فلا تخرُجوا منها وإذا وقعَ بها ولستُم بها فلا تقدُموا عليهِ وفي روايةٍ فإذا كانَ بأرضٍ ولستُم بها فلا تقرَبوها .(مجمع الزوائد)
غزوۂ تبوک کے موقعے پر آپ ﷺ نے فرمایا: جب کسی سر زمین پر طاعون نازل ہو اور تم وہاں اقامت گزیں ہو تو وہاں سے کوچ نہ کرو، اور اگر ایسی کوئی وبا نازل ہو تو وہاں نہ جایا کرو۔
یہ اور ان جیسے ارشادات احتیاطی تدبیر پر محمول ہیں۔ یہ احتیاط اس وجہ سے ہے تاکہ میل جول کی بنا پر بہ تقدیرِ الہی یہ بیماری اگر کسی کو لگ جائے تو اس کا عقیدہ خراب نہ ہو۔
کہ اللہ کی ذات پر کامل توکل رکھتے ہوے ان اسباب کو اختیار کرنے سے گریز کیا جائے جن اسباب کی بنیاد پر عامۃ یہ بیماری اشخاص میں لگتی ہے جسکے لئے ہر ملک نے اپنے باشندوں اپنے اپنے اعتبار سے who کی گائیڈ لائن کے مطابق عمل کرنے کا پابند بنایا ہے۔
اللہ سے دعا ہیکہ اللہ ہمیں اور پوری امت کو اس مہلک بیماری سے محفوظ رکھے۔
Comments
Post a Comment